اردوئے معلیٰ

Search

پائی ہے جس نے دولت نسبت حسین سے

کیوں کر نہ پائے وہ گل نصرت حسین سے

 

اسلام کو حسین نے بخشی ہے زندگی

باقی ہے آبروئے شریعت حسین سے

 

باطل کا سر جھکا دیا عزم حسین نے

ہے اعتبارِ ہمت و جرأت حسین سے

 

زیر و زبر کیا ہے جہان نفاق کو

خائف ہے اب بھی سازشِ بیعت حسین سے

 

سجدہ زمین ظلم و ستم پر ادا کیا

پوچھے کوئی نماز کی عظمت حسین سے

 

حاصل ہمیں حلاوتِ ایماں ہے اس لیے

ہے قلب کو ہمارے مودت حسین سے

 

یاد حسین بزم تخیل کی روشنی

چہرے پہ زندگی کے ہے رنگت حسین سے

 

یہ بات مانتی ہے ہر اک شمع بے دریغ

ہے زندگی کی نبض میں حرکت حسین سے

 

سر کو کٹا کے دین کو کرنا ہے سرفراز

کہتی تھی مسکرا کے شہادت حسین سے

 

کہہ دو یزیدِ وقت نہ ہم کو دکھائے آنکھ

ہے خون میں ہمارے حرارت حسین سے

 

جب سے سنا ہے راکب دوشِ رسول ہیں

کچھ اور بڑھ گئی ہے عقیدت حسین سے

 

عشق نبی کی شمع ہے سینے میں ضوفگن !

ہوگی ضرور آپ کو الفت حسین سے

 

نواب شہ کے دستِ مبارک میں دے کے ہاتھ

کر لی ہے نورؔ میں نے بھی بیعت حسین سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ