پادشاہا! ترے دروازے پہ آیا ہے فقیر

 

پادشاہا! ترے دروازے پہ آیا ہے فقیر

چند آنسو ہیں کہ سوغات میں لایا ہے فقیر

 

دیکھی دیکھی ہوئی لگتی ہے مدینے کی فضا

اس سے پہلے بھی یہاں خواب میں آیا ہے فقیر

 

اہل منصب کو نہیں بار یہاں پر لیکن

میرے سلطان کو بھایا ہے فقیر

 

اب کوئی تازہ جہاں خود اسے ارزانی کر

کہ جہان دگراں سے نکل آیا ہے فقیر

 

اس کو اک خواب کی خیرات عطا ہوجائے

کہ جسے دید کی خواہش نے بنایا ہے فقیر

 

اک نگہ جب سے عنایت کی ہوئی ہے اس پر

اک زمانے کی نگاہوں میں سمایا ہے فقیر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا محمد محمد میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی
خدا کے واسطے لے چل صبا مدینے میں
پھر کرم ہوگیا میں مدینے چلا
معطّر شُد دل از بوئے محمّد
دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے
خالق کے شاہکار ہیں خلقت کے تاجدار
خوشبو اُتر رہی ہے مرے جسم وجان میں
بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی
ذات عالی صفات کے صدقے

اشتہارات