پاکستان کے ممتاز انگلش شاعر اور مترجم توفیق رفعت کی برسی

آج پاکستان کے ممتاز انگلش شاعر اور مترجم توفیق رفعت کی برسی ہے۔

کسی بھی فن سے وابستہ شخصیت کو اگر کوئی بات دُکھ دے سکتی ہے تو وہ اسکی دھرتی کے لوگوں کی اسکے فن سے ناواقفیت ہے۔
کچھ ایسا ہی 7 جون 1927 کو سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے توفیق رفعت کے ساتھ ہوا جنہوں نے احساسات سے بھرپور شاعری کی۔ سیالکوٹ نے جہاں فیض اور اقبال جیسے اردو ادب کے نامور شاعر دیئے وہاں انگریزی ادب کا شاعر توفیق رفعت اپنی پہچان کا منتظر ہے۔ علی گڑھ اور لاہور سے تعلیم حاصل کی اور انگریزی زبان میں شاعری کی۔ پاکستانی محاوروں کو انگریزی ادب میں متعارف کرنے کا سہرا بھی توفیق رفعت کو جاتا ہے۔ انہوں نے نوجوان شعراء کی رہنمائی کے لئے اس اصول پر "شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات” شاعری کے موضوع پر ورکشاپ کیں اور انگریزی ادب کی پیچیدہ اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا۔انکا پہلا شعری مجموعہ ” دی ارائیول آف مون سون” 1985 میں شائع ہوا جس نے شاعری لکھنے اور پڑھنے والوں کو اپنے اسٹال کی جانب کھینچا۔ انکی انگریزی آزاد نظم “Wedding in the flood” میں توفیق رفعت مقامی شادی کا حال لکھتے ہیں جس میں دُلہا، دلہن اور انکے والدین جو دل ہی دل میں سوچ رہے ہیں اسکی عکاسی کی ہے۔
"سیلاب کی دلہن”
شہنائی دھنیں بکھیر رہی ہے
اور باراتی واپسی کے لیے اٹھ رہے ہیں
دلہن کی ماں سسکیاں بھرتی ہوئی کہتی ہے
"میری رانی کو یہ لوگ ہمیشہ کے لیے لے چلے۔۔۔
ان اجنبی چہروں کے ساتھ اُس بیگانےگھر تک
میری شرمیلی بچی کیسے سفر کرے گی”
1998 میں اکادمی ادبیات پاکستان نے انکے شعری مجموعے "اے سلیکشن” پر وزیراعظم ادبی ایوارڈ ملا۔
انگریزی ادب کی خدمت کا صلہ اس صورت ملا کہ دولتِ مشترکہ نے ان کی نظموں First Voices , Pieces of Eight, Word fall
کو آکسفورڈ یونیورسٹی، امریکہ، آسٹریلیا اور افریقہ کے سکول اور کالجز کے نصاب میں شامل کیا جو ایک پاکستانی شاعر کے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں اسکے علاوہ انکی نظمیں پاکستان میں پنجاب اور سندھ کی یونیورسٹیوں اور انٹرمینڈیٹ انگریزی نصاب میں شامل ہیں۔
انکی نظمیں انکے تخیل، انکی حساس طبیعت اور شاعری حس کی تصدیق کرتی ہیں۔ انکی مثال ایک بڑھئی کی سی ہے جو لکڑی پر ضرب لگا کر اسے فن پارے میں تبدیل کرتا ہے، توفیق رفعت کا اوزار انکے الفاظ تھے۔ وہ اپنے بارے میں خود کہتے تھے کہ "میں ایک عام سا شخص ہوں جس کی کوشش ہے کہ جو بات اسکے دل میں ہے اسے بہتر طریقے سے بیان کر سکے”۔
بلھے شاہ اور قادریار کی شاعری کا انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے والےتوفیق رفعت 2 اگست 1998 کو وفات پا گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیلاب کی دلہن
شہنائی دھنیں بکھیر رہی ہے
اور باراتی واپسی کے لیے اٹھ رہے ہیں
دلہن کی ماں سسکیاں بھرتی ہوئی کہتی ہے
"میری رانی کو یہ لوگ ہمیشہ کے لیے لے چلے۔۔۔
ان اجنبی چہروں کے ساتھ اُس بیگانےگھر تک
میری شرمیلی بچی کیسے سفر کرے گی”
آج کا دن کتنا کٹھن تھا
تمام دن آسمان سے پانی برستا رہا
ہاں، بارات کو کھانا کھلانے کے وقت ضرور رکا تھا
دلہن کو پالکی میں بٹھایا جا رہا ہے
اور بوندیں پھر سے گرنے لگی ہیں
شاید لڑکی برتن بہت زیادہ چاٹتی تھی
دو تکڑے جوان جہیز کا سامان، جس میں
ایک چارپائی،شیشہ، نیلا اور زرد رنگ کیا ہوا ایک صندوق
اٹھائے چل رہے ہیں
اور ان سے پیچھے چار کہار ڈولی کو کندھوں پہ اٹھائے ہیں
بارات کو رخصت کرنے والے اب تو بہت پیچھے رہ چکے ہیں
دلہا چوری آنکھ سے
پالکی پکڑے ہوئے حنائی ہاتھ دیکھتاہے
"اگر اس کا چہرہ بھی ان ہاتھوں جیسا خوبصورت ہوا
اور
اس نے گھر میں کوئی فساد کھڑا نہ کیا
تو!!! تھوڑے جہیز کی خیر ہے جی۔۔
یہ بارش کب رکے گی بھئی؟
میری قسمت میں یہ برتن چاٹنے والی ہی لکھی تھی!!!
اب ساری بات ملاح پہ ہے”
پالکی میں دلہن خود سے گویا ہوئی
"اس کی تو چھت سے بھی پانی بہہ رہا ہے
میرے پاؤں تک بھیگ چلے ہیں
اندھیرا بھی کس قدر ہے
اور اردگرد کوئی اپنا بھی تو نہیں ۔۔
ٹھنڈ لگ رہی ہے اور ڈر بھی
یہ بارش میرا جہیز برباد کر کے چھوڑے گی
میرا گھر والا ۔۔۔پتا نہیں، وہ کس مزاج کاہے!!
باراتی۔۔۔تیز تو چلیں بے چارے
مگر پاؤں ہی پھسل پھسل پڑتے ہیں
ہاں۔۔۔ ابھی چڑھا ہوا دریا بھی تو رستے میں ہے!!!!!
دلہے کا باپ دلہن والوں کوکوس رہاہے
"انہوں نے ہمیں دیا ہی کیا ہے؟؟
ایک بیل تک نہیں دے سکے۔۔
جوڑی بیلوں کی ہی دے دیتے
تو اگلی فصل اچھی ہو جاتی!!
کھاٹ، شیشہ اور صندوق ۔۔یہ سب کچھ
یہ تو لڑکی خود ہی استعمال کرے گی نا!!
ربا سوہنیا! بارش کیاچاہتی ہے!!!
یقیناً یہ بےوقوف لڑکی برتن چاٹتی رہی ہو گی
صبح جب ہم آئے تھے
تو دریا کے تیور اچھے نہیں لگ رہے تھے
ملاح نے بھی کہا تھا
"تین بجے سے ضرور لوٹ آنا
ورنہ۔۔۔
مجھے یہاں نہیں پاؤ گے”
مجھے امید ہے، وہ ہمارا انتظار ضرور کرے گا
لگتا ہے ہمیں ایک سے دو گھنٹے دیر ہو چکی ہے
پر بھائی جی! طے شدہ وقت پہ
کبھی کوئی بارات پہنچی بھی ہے؟؟؟
روشنی بھی کم ہے اور رستہ بھی دغا باز ہے
لیکن مجھے سب سے زیادہ ڈر دریا سے لگ رہا ہے
ملاح ادھر ہی ہو گا، مجھے پتا!
دیکھو ذرا، کشتی والا ہمارا انتظار کر رہا ہے
اسے پتہ تھا، دلہا دلہن اور ہم سارے
اس کے بغیر پار کیسے جا سکیں گے!!
بارات سے تو پیسے بھی کچھ زیادہ ہی ملتے ہیں نا !!!
چلو جلدی سے اپنا یہ ڈھیروں جہیز اٹھاؤ
اور کشتی میں سوا رہو جاؤ
گھر ابھی بہت دور ہے
اللہ !!!!!!
دریا کو اتنے غصے میں کس نےدیکھا ہوگا
کس کے پاس وہ لفظ ہیں ، جن سے
اس راستے کی کٹھنائی کو بیان کر سکے
جس پہ وہ بدقسمت کشتی روانہ ہوئی تھی
اور پھر
کشتی نے مسافروںکو باہر اٹھا مارا
شہنائی سے پانی کا ساز نکلتا تھا
ملاپ ہو ہی گیا آخر، اور کیسا ملاپ ہے یہ:
دلہے کے با پ کو لہروں نے سینگوں پہ اٹھا لیا
اور
دلہے کے پہنے ہوئے تیس کے تیس ہار
جھومتے چڑھتے پانی کے گلے میں پڑے تھے
اُتھلی جانب بید کی طرح رقصاں بھنور میں
بالآخر
وہ شرمیلی دلہن سیلاب سے بیاہ دی گئی
نظم:توفیق رفعت
ترجمہ: فلک شیر
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ممتاز شاعر ڈااکٹر معین احسن جذبیؔ کا یومِ پیدائش
نامور شاعرہ رحمت النساء نازؔ کا یوم وفات
نامور افسانہ و ڈرامہ نگار میرزا ادیب کا یوم وفات
معروف شاعر ضیاؔ فتح آبادی کا یومِ وفات
اردو کے صف اول کے افسانہ نگار ابوالفضل صدیقی کا یومِ پیدائش
نامور افسانہ نگار ہاجرہ مسرور کا یوم وفات
معروف شاعر بلراج کومل کا یومِ پیدائش
اردو کے مشہور شاعر شیدا چینی کا یوم وفات
ناول نگار و افسانہ نگار الیاس سیتا پوری کا یوم وفات
نامور شاعر اور نغمہ نگار ساحر لدھیانوی کا یومِ پیدائش