اردوئے معلیٰ

Search

پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے

میرا ہی ہاتھ تھام کے رویا گیا مجھے

 

میں سخت جان جھیل گیا طنزیہ ہنسی

سو میرے آنسووں میں ڈبویا گیا مجھے

 

کہنے کو چشم نم سے بہایا گیا ہوں میں

لیکن پلک پلک میں پرویا گیا مجھے

 

آخر کو میں سفید لبادے ہہ داغ تھا

مل مل کے اضطراب میں دھویا گیا مجھے

 

پھوٹوں بھی اب تو کون سے منہ سے تمہی کہو

جب ریگزار مرگ میں بویا گیا مجھے

 

وہ نوکدار کانچ کے ٹکڑوں سا خواب پھر

آنکھوں کے موندتے ہی چبھویا گیا مجھے

 

ناصر میں زیب تن ہوں کسی کے کہ آج بھی

دامن کے ساتھ ساتھ بھگویا گیا مجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ