اردوئے معلیٰ

پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں

پا ہی گئی ہے خاک ٹھکانہ ، خاکِ ازل کی پرتوں میں

رزقِ مسافت ٹھہرے ہیں ہم جذب ہوئے ہیں رستوں میں

 

آج بھی ہے میراثِ جنوں میں دِل کو خیانت نا ممکن

یوں تو عیب ہزاروں ہوں گے ہم ایسے کم بختوں میں

 

آؤ ، عمر کے عرشے سے کچھ دیر سمندر کو دیکھیں

آخر کو تبدیل سفینہ ہو جانا ہے تختوں میں

 

تم نے بس تلچھٹ چکھی ہے سوکھتے خواب کے امرت کی

تم نے رنگ کہاں دیکھے اِس روپ کے اگلے وقتوں میں

 

اک امید کا لیپ کیا ہے ، برسوں عمر کی تختی پر

سینت کے برسوں تک رکھا اک خواب یقیں کے بستوں میں

 

ہم درویش صفت کیا بیٹھیں وصل کی اونچی مسند پر

تم اصنام کہاں پاؤ گے ہم اصنام پرستوں میں

 

وقت کو جیسے ایڑ لگا دی ہو تکلیف کی شدت نے

بیت گئی ہیں ناصر جیسے ہجر کی صدیاں ، ہفتوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ