اردوئے معلیٰ

پختہ وہ راہِ محبت میں کہاں ہوتا ہے

جس کو کچھ وسوسۂ سود و زیاں ہوتا ہے

 

آہ کش ہے کبھی سرگرمِ فغاں ہوتا ہے

دل کی تقدیر میں آرام کہاں ہوتا ہے

 

وقت حیرت زدہ ٹھہرا کہ جہاں ہوتا ہے

شبِ اسرا جو کوئی عرش مکاں ہوتا ہے

 

عالمِ جذبِ تصور مرا سبحان اللہ

جیسے وہ سامنے بیٹھے ہیں گماں ہوتا ہے

 

زخمِ شمشیر و سناں ایک نہ اک دن بھر جائے

مندمل ہو نہ جو وہ زخمِ زباں ہوتا ہے

 

آدمی کاشفِ اسرارِ جہاں ہے لیکن

آپ خود اپنی نگاہوں سے نہاں ہوتا ہے

 

عمر کس طرح سے گزرے گی نظرؔ ایسے میں

شبِ تنہائی کا اک پل بھی گراں ہوتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات