اردوئے معلیٰ

پردۂ روئے دوست اٹھا ، شوق کو بے پناہ کر

پردۂ روئے دوست اٹھا ، شوق کو بے پناہ کر

زُہد بھی جھوم جھوم اٹھے ، ایسا کوئی گُناہ کر

دی ہے سروش نے جو آج آمدِ دوست کی نوید

عرش سے کہکشاں اتار اور اسے فرشِ راہ کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ