اردوئے معلیٰ

Search

پروردگار! صاحبِ ایمان کیا کریں

تیری زمیں پہ، تیرے مسلمان کیا کریں

 

ہر سمت شیطنت کے مظاہر ہیں میرے رب!

ایسے میں چند روز کے مہمان کیا کریں؟

 

لٹنے لگے ہیں قافلہ ہائے دل و نظر

ان کو بچا سکیں، نہیں امکان، کیا کریں؟

 

بیمار ہیں تمام ہی اہلِ معاملہ

بے چینیوں کی روح کا درمان کیا کریں؟

 

خندق بھی جب حفاظتِ طیبہ نہ کر سکے

ایسے میں حفظِ جان کا سامان کیا کریں

 

بھیجا تھا جن کو تو نے خلافت کے واسطے

یاں وہ علاجِ تندیٔ ہیجان کیا کریں؟

 

فی الاصل گھِر چکے ہیں سبھی غم کی آگ میں

گھیرے ہوئے ہیں ظلم سے شیطان کیا کریں؟

 

یا رب ترے وجود کے منکر تو شاد ہیں

غمگین ہیں تو صاحبِ ایمان، کیا کریں؟

 

اب تو رکوع و سجدہ بھی مشکل ہے دہر میں

تیری ثنا بھی اب نہیں آسان، کیا کریں؟

 

مارا ہو جن کو خود ہی یہاں شہریار نے

وہ لوگ اب شکایتِ دربان کیا کریں؟

 

یا رب ترے جہاں میں شیاطیں کو دیکھ کر

خاموش لب ہیں دل بھی ہیں ویران کیا کریں؟

 

دیندار بن کے، شر کے پجاری بھی آ گئے

ہم سادہ دل فریب کی پہچان کیا کریں؟

 

تیرے جہاں میں ہم سے دل افگار یا کریم!

بیٹھے ہیں لے کے دیدۂ حیران، کیا کریں؟

 

احسنؔ سے دل فگار تری کارگاہ میں

یا رب ہیں بے پناہ پریشان کیا کریں؟

 

صاحبِ ایمان کیا کریں؟بدھ: ۱۰؍جمادی الاول ۱۴۳۸ھ… مطابق:۸؍فروری ۲۰۱۷ء

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ