پرچم کشا جمال ہے شہر حبیب میں

پرچم کشا جمال ہے شہر حبیب میں

ہر نقش بے مثال ہے شہر حبیب میں

 

میری طرف بھی دیکھئے سرکار اک نظر

ہر لب پر اک سوال ہے شہر حبیب میں

 

بچھتا ہی جا رہا ہے ہر اک رہگذار پر

دل کا عجیب حال ہے شہر حبیب میں

 

جو زخم ہیں لگائے ہوئے روزگار کے

ان سب کا اندمال ہے شہر حبیب میں

 

کچھ ایسے غمگسار حرم کے ستون ہیں

کافور ہر ملال ہے شہر حبیب میں

 

منزل پہ آ گیا ہوں سفر جیسے کاٹ کر

آرام جاں بحال ہے شہر حبیب میں

 

تائب مدینے والے کے جلوے ہیں ہرطرف

نکھرا ہوا خیال ہے شہر حبیب میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محبت ہو نہیں سکتی خُدا سے
نبیؐ اللہ کا مُجھ پر کرم ہے
حشر میں پھیلے گا جب سایۂ غُفرانِ وسیع
میں بے بس و لاچار ہوں، بیمار بہت ہوں
بھیک ہر ایک کو سرکار سے دی جاتی ہے
انداز زندگانی کے سارے بدل کے آ
جب اوجِ سخن کعبۂ ادراک میں خم ہو
کہاں سے لاؤں وہ حرف و بیاں نمی دانم
کچھ اور ہو گا رنگِ طلب ، جالیوں کے پاس
شاہ بطحا کی اگر چشم عنایت ہوگی