اردوئے معلیٰ

پسماندگانِ عشق کی ڈھارس بندھائی جائے

پسماندگانِ عشق کی ڈھارس بندھائی جائے

جشنِ شکستِ دل ہے ، مئے سُرخ لائی جائے

سیراب ہونٹ کیسے کہیں تشنگی پہ شعر؟

سو پہلے اِن کو پیاس کی لذّت چکھائی جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ