پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے

پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے

چلا دو گام بھی جب وہ ادا سے

 

وہ بت آئے ادھر بھی بھول کر راہ

دعا یہ مانگتا ہوں میں خدا سے

 

حجاب اس کا ہوا شب مانع دید

نقاب الٹی نہ چہرے کی حیا سے

 

اشارہ خنجر ابرو کا بس تھا

مجھے مارا عبث تیغ جفا سے

 

بہت بل کھا رہی ہے زلف جاناں

بچے گی جان کیوں کر اس بلا سے

 

ہے بہتر اک کرشمے میں ہوں دو کام

مدینے جاؤں راہ کربلا سے

 

خدا جب بے طلب بر لائے مقصد

اٹھاؤں کیوں نہ ہاتھ اپنے دعا سے

 

نظامؔ اب عقدۂ دل کیوں نہ حل ہوں

محبت ہے تجھے مشکل کشا سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
ضبط کے امتحان سے نکلا
بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا
لوگوں کے دُور کر کے غمِ روز گارِ عشق
یاقوت لب کو آنکھ کو تارہ نہ کہہ سکیں
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
اس لیے بھی دُعا سلام نہیں
اِک ذرہِ حقیر سے کمتر ہے میری ذات
پا یا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر

اشتہارات