اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو

 

پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو

یوں بخشواؤ جن و بشر کو خبر نہ ہو

دھل جائیں داغ ، دامنِ تر کو خبر نہ ہو

ایسے گزارو ، نارِ سقر کو خبر نہ ہو

پل سے اتارو ، راہ گزر کو خبر نہ ہو

جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو

 

دستِ خزاں کی زد میں ہے دل اس فگار کا

مدت ہوئی کہ منہ نہیں دیکھا بہار کا

دستِ حضور میں ہے شرف ، اختیار کا

کانٹا مرے جگر سے غمِ روزگار کا

یوں کھینچ لیجیے کہ جگر کو خبر نہ ہو

 

جاں پر بنی ہوئی تھی غمِ انتظار میں

لے آئی مجھ کو دید حسرت مزار میں

حائل نہیں حجاب کوئی اس دیار میں

فریاد امتی جو کرے حالِ زار میں

ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو

 

ان پر مٹا دے ان کی ولا میں خدا ہمیں

ایسی پلا دے ان کی ولا میں خدا ہمیں

بیخود بنا دے ان کی ولا میں خدا ہمیں

ایسا گما دے ان کی ولا میں ‌خدا ہمیں

ڈھونڈا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو

 

بیٹھا ہے تیری پشت پہ آ کر ابھی ابھی

نبیوں کا تاجدار بہ شانِ پیمبری

منزل ہے دور تر ، کوئی ضائع نہ ہو گھڑی

کہتی تھی یہ براق سے اس کی سبک روی

یوں جائیے کہ گردِ سفر کو خبر نہ ہو

 

مسجود کوئی ذاتِ احد کے سوا نہیں

مانا کہ وہ رسولِ خدا ہیں ، خدا نہیں

جائز کبھی یہ دینِ نبی میں‌ ہوا نہیں

اے شوقِ دل! یہ سجدہ گر ان کو روا نہیں

اچھا وہ سجدہ کیجے کہ سر کو خبر نہ ہو

 

گہرے کچھ اور ہونے لگے ہیں غموں کے سائے

دشتِ وفا میں کون قدم سے قدم ملائے

اے ضبطِ گریہ! آنکھ میں آنسو نہ آنے پائے

اے خارِ طیبہ ! دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جائے

یوں دل میں آ کہ دیدۂ تر کو خبر نہ ہو

 

انساں کو اذنِ شوخ کلامی نہیں جہاں

پرساں بہ جز رسولِ گرامی نہیں جہاں

ان سا نصیر شافعِ نامی نہیں جہاں

ان کے سوا رضا کوئی حامی نہیں ، جہاں

گزرا کرے پسر پہ پدر کو خبر نہ ہو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب شامِ سفر تاریک ہوئی ، وہ چاند ہویدا اور ہوا​
وہی ہم اہلِ خطا کو نبی ﷺسے ملتا ہے
زمیں پر جو جنت کا نقشہ ہے واللّٰہ
غم نے کیا ہے یہ حال آقاؐ ​
نور کے حرف چنوں، رنگ کا پیکر باندھوں
روح بیتاب ہے اور دل ہے شکستہ آقاؐ
یہ الگ بات کہ حیرت کرے، حسرت نہ کرے
اسی لئے تو فروزاں ہے یہ حیات کی ضو
نعتِ پیغمبرؐ لکھوں طاقت کہاں رکھتا ہوں میں
سرتاجِ انبیاء ہو شفاعت مدار ہو