پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے

پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے

ہٹاو شاہ کہ درویش کو بھی راہ ملے

 

نظر چرا کے محبت سے آج یوں نکلا

کہ قرض دار کو رستے میں قرض خواہ ملے

 

وہ پیار پیار میں جھگڑے بھی تو خدا کی پناہ

پھر اس کے بعد ملے بھی تو، بے پناہ ملے

 

اور اب تو شہر سخن کا بھی یہ ہوا معیار

غزل سے قبل ہی شاعر کو واہ واہ ملے

 

ملے جو لوگ سر راہ، وہ ملے رسماً

کوئی تو ایسا ملے جس سے رسم و راہ ملے

 

میں شہرِ زاہداں سے گھوم پھِر کے آیا ہوں

کہ سجدہ گاہ کو ڈھونڈو تو قتل گاہ ملے

 

خدا سے بڑھ کے تجھے میں نے یاد رکھا ہے

مری دعا ہے کہ اس کا تجھے گناہ ملے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
تمہارے گال کو چھو کر بھی کھارا کس لئے ہے؟
نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں
اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ہوگا ہی
گر چاہتے ہو حسرتِ ناکام دیکھنا
کس کو سامع کرے سخن میرا
زندگانی تو اگر یوں ہو بسر کیا کیجئے