اردوئے معلیٰ

Search

 

پندار کی ویران سرا میں نہیں رہتے

ہم خاک پہ رہتے ہیں خلا میں نہیں رہتے

 

قامت بھی ہماری ہے، لبادہ بھی ہمارا

مانگی ہوئی دستار و قبا میں نہیں رہتے

 

ہم کشمکشِ دہر کے پالے ہوئے انسان

ہم گریہ کناں کرب و بلا میں نہیں رہتے

 

خاشاکِ زمانہ ہیں، نہیں خوف ہمیں کوئی

آندھی سے ڈریں وہ جو ہوا میں نہیں رہتے

 

ہم چھوڑ بھی دیتے ہیں کھُلا توسنِ دل کو

تھامے ہوئے ہر وقت لگامیں نہیں رہتے

 

روحوں میں اتر جاتے ہیں تیزاب کی صورت

لفظوں میں گھلے زہر صدا میں نہیں رہتے

 

احساس کے موسم کبھی ہو جائیں جو بے رنگ

خوشبو کے ہنر دستِ صبا میں نہیں رہتے

 

اونچا نہ اُڑو اپنی ضرورت سے زیادہ

تھک جائیں پرندے تو فضا میں نہیں رہتے

 

دستار بنے جاتے ہیں اب شہرِ طلب میں

کشکول کہ اب دستِ گدا میں نہیں رہتے

 

اس خانہ بدوشی میں خدا لائے نہ وہ دن

جب بچھڑے ہوئے یار دعا میں نہیں رہتے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ