پوچھتا ہے جب بھی کوئی مجھ سے خاموشی کی بات

پوچھتا ہے جب بھی کوئی مجھ سے خاموشی کی بات

آسماں کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپ کی آنکھیں سمندر کیا ہوئیں
میں کہیں، یاد کہیں، خواب کہیں ہے میرا
ہے پیار کا کھیل مصلحت اور خیالِ سود و زیاں سے بالا
مجھ کو سارا حساب آتا ہے
مری محبت کے تین درجے ہیں سہل ، مشکل یا غیر ممکن
سجدے میں آ گیا تھا کوئی اور ہی خیال
کیا حسن اتفاق تھا اس کی گلی میں ہم
ہو غریبوں کا چاک خاک رفو
آنکھ پڑتی ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے
میں مے کدے کی رہ سے ہو کر نکل گیا

اشتہارات