پُرسکوں زندگی مدینے میں

پُرسکوں زندگی مدینے میں

غم ہی غم، دُور رہ کے جینے میں

 

وہ جہاں بھر کی خوشبوؤں میں کہاں

جو مہک آپ کے پسینے میں

 

اُن پہ سرکار کی ہے نگہِ کرم

عشقِ احمد ہے جن کے سینے میں

 

اُن کو دیتے ہیں راستا طوفاں

جو ہیں سرکار کے سفینے میں

 

آپ کا پیار روز افزوں ہے

نِت اضافہ مرے خزینے میں

 

کیا عجب جام اِک عطا کر دیں

کیا کمی اُن کے آبگینے میں

 

کچھ نہ خوبی ظفرؔ سگِ در میں

اِک وفا ہی تو ہے کمینے میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ