پُرکیف آرزُو کا نگر جا کے دیکھیے

پُرکیف آرزُو کا نگر جا کے دیکھیے

شہرِ نبی کے شام و سحر جا کے دیکھیے

 

خوشیاں بھی رقص کرتی ہیں چاروں طرف جہاں

غَم کا نہیں ہے کوئی گُزر جا کے دیکھیے

 

جب سے قدم پڑے ہیں رِسالت مآب کے

ذرّے بنے ہیں شمس و قمر جا کے دیکھیے

 

جنت سے بڑھ کے رونقیں اُن کے دیار کی

رعنا، گلاب، برگ و شجر جا کے دیکھیے

 

اللہ کا جمال نظر آئے گا وہاں

جس سمت بھی اُٹھے گی نظر جا کے دیکھیے

 

شاید ہو رمزِ نور کا عُقدہ کُشا رضاؔ

طیبہ میں روشنی کا سفر جا کے دیکھیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

امن اور آگہی ، بندگی ہیں نبی
یہ راز مجھ پہ اچانک کھلا مدینے میں
یہ ہلکا ہلکا سرور مژدہ سنا رہا ہے
نعت ایسی بھی کوئی مجھ پہ اتاری جائے
جا کے صبا تُو کوئے محمدﷺ
کوئی بھی حرف سپردِ قلم نہیں کیا ہے
چشمِ الطاف و عنایاتِ مکرر میں ہے
خامہ و ُنطق پہ ہے کیسی عنایت تیری
تمام منظرِ سیر و ثبات تیرے لئے
تصور منتہی ہو جائے جس پر رنگ و نکہت کا