پڑا ہوا ہے بہت سے چہروں پہ مستقل جو غبار کیا ہے

پڑا ہوا ہے بہت سے چہروں پہ مستقل جو غبار کیا ہے

ذرا کبھی آئینوں سے پوچھو، نگاہ کا اعتبار کیا ہے

 

یہ زندگانی تو یوں لگے ہے، ہو کھیل کٹھ پتلیوں کا جیسے

ہے اور ہاتھوں میں ڈور ہی جب تو پھر مرا اختیار کیا ہے

 

شکستہ دل ہیں بہت سی کلیاں ،بدن دریدہ ہیں پھول سارے

ہیں خار زاروں میں قید آنکھیں، کہ جانتی ہیں بہار کیا ہے

 

پلے ہیں جو دل کی دھڑکنوں میں ، لہو ہے جن کی رگوں میں جاری

بھلا انہیں کوئی کیا بتائے، سکون کیا ہے قرار کیا ہے

 

زمیں کو گھیرے سمندروں اور ہوا کے طبقوں کا رقص پیہم

خلا میں یا رب ! یہ طرفگیٔ حصار اندر حصار کیا ہے

 

وہ دیدہ ور ہے جو آبدیدہ ، مدام ہے جس کی مسکراہٹ

اسی سے پوچھو، کہ بار و کربِ لب تبسم شعار کیا ہے

 

ہے پیار کا کھیل مصلحت اور خیالِ سود و زباں سے بالا

لگا ہی لی ہے جو دل کی بازی تو جیت کیا اور ہار کیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

اشتہارات