اردوئے معلیٰ

پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا

 

پگھل کر روشنی میں ڈھل رہوں گا

نظر آ کر بھی میں اوجھل رہوں گا

 

بچھڑ جاؤں گا اک دن اشک بن کر

تمہاری آنکھ میں دو پَل رہوں گا

 

ہزاروں شکلیں مجھ میں دیکھنا تم

سروں پر بن کے میں بادل رہوں گا

 

میں مٹی ہوں، کوئی سونا نہیں ہوں

جہاں کل تھا، وہیں میں کل رہوں گا

 

بدن صحرا ہے لیکن آنکھ نم ہے

اِسی شبنم سے میں جل تھل رہوں گا

 

جہاں چاہو مجھے رکھ دو اٹھا کر

چراغِ نیم شب ہوں جل رہوں گا

 

گرا کر خود کو ہلکا ہو تو جاؤں

پر اندر سے بہت بوجھل رہوں گا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ