پھر تذکرۂ خواجۂ ذیشان کیا جائے

پھر تذکرۂ خواجۂ ذیشان کیا جائے

یوں روح کی تسکین کا سامان کیا جائے

ایمان کا ایقان کا آصف ہے تقاضا

سب کچھ شہِ کونین پہ قربان کیا جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

لکھوں کوثؔری کیا میں کونسا قصہ ہے اب باقی
اک ایسے رہ نما آئے اک ایسے شہ سوار آئے
درِ سرکارؐ کی عظمت تو دیکھو
ہجر کے رنج و غم سہوں آقاؐ
آپؐ کا فیض عام ہوتا ہے
پہنچ سکتا نہیں گو آستاں پہ
کروں ذکر اُنؐ کی عظمت کا، مری اوقات ہی کیا ہے
میں حمد و نعت کے اشعار با صدق و صفا لکھوں
’’فخرِ آقا میں رضاؔ اور بھی اک نظمِ رفیع‘‘
’’تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا‘‘

اشتہارات