اردوئے معلیٰ

پھر عطا ہو جائے آقا روشنی کا پیرہن

 

پھر عطا ہو جائے آقا روشنی کا پیرہن

تیرہ تیرہ ہوگیا ہے زندگی کا پیرہن

 

جھکنے لگتی ہیں جبیں پھر آپ کی دہلیز پر

جب پہن لیتا ہے انساں آگہی کا پیرہن

 

روزِ محشر سامنا کیسے کریں گے آپ کا

فخر کرتے ہیں پہن کر جو بدی کا پیرہن

 

آپ کے آتے ہی سب گردِ کدورت دھل گئی

ہو گیا شفاف روحِ آدمی کا پیرہن

 

کیسے ان کو آئے گا نورِ مجسّم کا یقیں

لوگ جب پہنے رہیں گے تیرگی کا پیرہن

 

مدحتِ سرکار میں جامی رقم کرتے رہو

باعثِ توقیر ہوگا شاعری کا پیرہن

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ