پھر لگا ہے دوستوں کا تازیانہ مختلف

پھر لگا ہے دوستوں کا تازیانہ مختلف

تیر دشمن کی طرف ہیں اور نشانہ مختلف

 

بے نیازی برطرف، اب لازمی ہے احتیاط

وقت پہلا سا نہیں اب، ہے زمانہ مختلف

 

آشیانہ چھوڑنے کی اک سزا یہ بھی ملی

روز لاحق ہے تلاشِ آب و دانہ مختلف

 

اک شکم پرور زمیں رکھتی ہے پابستہ مجھے

اور وفائیں مانگتی ہیں اک ٹھکانہ مختلف

 

دوسرا رخ بھی وہی نکلا تری تصویر کا

کاش ہوتا کچھ حقیقت سے فسانہ مختلف

 

اپنے بچوں کو ظہیرؔ انسانیت کا درس دو

نفرتوں کے شہر میں رکھو گھرانہ مختلف

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اپنوں نے بھی منّت کی، غیروں نے بھی سمجھایا
کسی بھی عشق کو ہم حرزِ جاں بنا نہ سکے
سارا قرضِ ہنر چکا دیا ہے
جیتے جیتے وہ دکھ جھیلا سکھ کا جینا چھوٹ گیا
لگاؤں ورثہ ء غم اس کے نام ، حاضر ہو
بچھڑنے والے کی باتوں کا دہرانا نہیں بنتا
طعنۂ سود و زیاں مجھ کو نہ دینا، دیکھو
بے غرض کرتے رہو کام محبت والے
سب کی وحشت کو خلاؤں میں لگایا ہوا ہے
آتشِ رنج و الم، سیلِ بلا سامنے ہے