اردوئے معلیٰ

پھر نعتِ مصطفیٰ پر راغب ہوئی طبیعت

سایہ فگن ہے مجھ پر پھر آج ابرِ رحمت

 

پاسِ ادب ہے لازم بے حد و بے نہایت

اے عقلِ ہیچ ساماں تو ہے بہ کارِ مدحت

 

آیا نبی کامل آیا رسولِ رحمت

بندوں پہ جبکہ ڈالی رب نے نگاہِ الفت

 

تاجِ سرِ نبوت وہ نازشِ رسالت

پرچم اسی کا پراں رہنا ہے تا قیامت

 

رعنائیوں کا پیکر معیارِ حسنِ فطرت

بدرِ منیر صورت روح الکتاب سیرت

 

بھر کر نگاہ دیکھے کس میں ہے اتنی جرأت

تاروں کے دائرہ میں بیٹھا وہ چاند صورت

 

زیرِ قدم ہے اس کے دونوں جہاں کی وسعت

رفعت ہے اس کو پستی، پستی ہے اس کو رفعت

 

توحید کا نوا گر سازِ سروشِ فطرت

آگاہِ سیرِ غیبی وہ صاحبِ بصیرت

 

آئینۂ حقیقت سرچشمۂ ہدایت

اخلاق کا مرقع مجموعۂ شرافت

 

دل کو کیا منور بخشی نظر کو وسعت

ہر فکرِ نارسا کو بخشی فلک کی رفعت

 

محبوب ہے خدا کا مخدوم ہے جہاں کا

ختم الرسل پہ میرے تکمیلِ دینِ فطرت

 

مردہ دلوں میں اس نے ایک روح ڈال دی ہے

سینوں میں اس نے پھونکی ایمان کی حرارت

 

سب کچھ ملا ہے ہم کو دستِ کرم کے صدقے

ایمان و جوش و غیرت مردانگی فتوت

 

ذرے سمٹ کے جو بھی پابوس ہو گئے تھے

آنکھوں کی سب کے تارے اس چاند کی بدولت

 

رب کی رضا سے جس دم وہ ہمکنار ہو گا

یومِ نشور ہو گا وہ شافعِ ہر امت

 

انجام چاہتا ہے اپنا بہ عاقبت گر

پائے عمل نظرؔ رکھ بر نقشِ آں شریعت

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات