اردوئے معلیٰ

Search

پھر کسی آئنہ چہرے سے شناسائی ہے

عاشقی اپنے تماشے کی تمنائی ہے

 

مہربانی بھی مجھے اب تو ستم لگتی ہے

اک بغاوت سی رَگ و پے میں اُتر آئی ہے

 

سنگِ برباد سے اٹھتا ہے عمارت کا خمیر

خاکِ تخریب میں پوشیدہ توانائی ہے

 

عصرِ حاضر کے مسائل ہوئے بالائے حدود

اب نہ آفاقی رہا کچھ، نہ علاقائی ہے

 

مسئلے دھرتی کے ہمزادِ بنی آدم ہیں

زندگی ساتھ میں اسبابِ سفر لائی ہے

 

شاعری صورتِ اظہارِ غمِ ذات نہیں

اپنی دنیا پہ مری تبصرہ آرائی ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ