پھول بھی نقلی دیے اور عطر بھی جُھوٹا دیا

پھول بھی نقلی دیے اور عطر بھی جُھوٹا دیا

بول، سچے عاشقوں نے اور تجھ کو کیا دیا؟

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کبھی آنکھوں سے کوئی خواب بچھڑ جاتا ہے
ریل پر یار آئے گا شاید
بے حسی میں دفن تھی انسانیت
آنکھ پڑتی ہے کہیں پاؤں کہیں پڑتا ہے
میں مے کدے کی رہ سے ہو کر نکل گیا
لبھدا فر ، ہن گلیاں گلیاں
فقط تہجی کے عام حرفوں پہ مشتمل تھا
ابھی اسے خواب جیسی نعمت نہیں دکھائی
عجب ملبوس ہے ہم وحشیوں کا رخت عریانی
اپنے انداز تکلم کو بدل دے ورنہ میرا