پھول سے نازک راہ کے پتھر صلِ علیٰ

پھول سے نازک راہ کے پتھر صلِ علیٰ

شہر شہِ کونین کے منظر صلِ علیٰ

 

گنبد خضرا سوچو کتنا ہوگا حسیں

چومنے آئیں ماہ و اختر صلِ علیٰ

 

جس کو پسینہ سرورِ دیں کا کہتے ہیں

رحمت کا وہ بھی ہے سمندر صلِ علیٰ

 

پھول بیانی سے آقا کی گھبرائیں

نیزے بھالے تیر اور خنجر صلِ علیٰ

 

باغِ خلافت کا پہلا گل ہیں صدیق

پھر ہیں عمر عثمان و حیدر صلِ علیٰ

 

شاخِ شہِ کونین پہ جس نے کیا ظہور

فاطمہ زہرا ہیں وہ گلِ تر صلِ علیٰ

 

دامنِ آقا سایہ کیے ہے مجھ پہ مجیبؔ

میں ہوں اور ہے عرصۂ محشر صلِ علیٰ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ