پھینکی نہ منور نے بزرگوں کی نشانی

پھینکی نہ منورؔ نے بزرگوں کی نشانی

دستار پرانی ہے مگر باندھے ہوئے ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ