پھینکی نہ منور نے بزرگوں کی نشانی

پھینکی نہ منورؔ نے بزرگوں کی نشانی

دستار پرانی ہے مگر باندھے ہوئے ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کرتا مَیں کیا گُریز ترے خدّوخال سے
میرا دشمن چاہتا تھا، فیصلہ جنگل میں ہو
ہمارا بخت ہی ایسا کرخت نکلے گا
آئینہ ٹوٹ جائے گا اور پھر
لے قضا احسان تجھ پر کر چلے
ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ اُنگلیوں کے نشاں
آپ دستار اٹھاؤ تو کوئی فیصلہ ہو
تو آج سکندر ہے تو کیوں اتنا تفاخر
گریہ بساط بھر ، یہاں لازم ہے ، فرض ہے
نہ تھے تیرے مرنے کےدن یہ نعیم

اشتہارات