پہلے وجدان نعت کہتا ہے

پہلے وجدان نعت کہتا ہے

پھر ثناخوان نعت کہتا ہے

 

نعت کہتا ہے ایک بندہ اور

ایک رحمان نعت کہتا ہے

 

سورہِ فاتحہ سے تا والناس

سارا قرآن نعت کہتا ہے

 

سامنے بیٹھ کر سنوں گا میں

میرا حسـان نعت کہتا ہے

 

اُس کی رحمت نہیں تو پھر کیا ہے

مجھ سا نادان نعت کہتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو مجھ سے خطا کار و زیاں کار بھی ہوں گے
اے ختمِ رسل نورِ خدا شاہِ مدینہ
ان کا نہیں ہے ثانی نہ ماضی نہ حال میں
امکانِ حرف و صوت کو حیرت میں باندھ کر
وجودِ شوق پہ اک سائباں ہے نخلِ درود
میں ، مری آنکھیں ، تمنائے زیارت ، روشنی
نبی اکرمؐ شفیع اعظمؐ دکھے دلوں کا پیام لے لو
آنکھ گنبد پہ جب جمی ہوگی
جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے
صبح بھی آپؐ سے شام بھی آپؐ سے