اردوئے معلیٰ

پہنچیں در محبوب پہ حسرت ہے کبھی سے

اور مانگیں اقامت کی جگہ اپنے سخی سے

 

ہر سنگِ رہِ کوچۂ جانان کو چومیں

ہو جائے گزر اپنا اگر ان کی گلی سے

 

اے کاش پیوں روضۂ سرکار پہ زم زم

اے کاش مری جان چھٹے تشنہ لبی سے

 

کستوری و لوبان سے بڑھ کر ہیں معطر

جو لوگ معطر ہوئے خوشبوے نبی سے

 

اعمال کی بنیاد جو رکھتے ہیں سنن پر

محشر میں وہ پھولے نہ سمائیں گے خوشی سے

 

سدرہ کا سفر آپ نے جس شاں سے کیا ہے

ویسا نہ ہوا اور نہ ہی ہو گا کسی سے

 

ہو جائے قمرؔ جس کو عطا عشق نبی کا

کرتا ہے محبت وہ قیامت کی گھڑی سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات