پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوں

پہنچے نہ وہاں تک یہ دعا مانگ رہا ہوں

قاصد کو ادھر بھیج کے دھیان آئے ہے کیا کیا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ آئی بات تک بھی منہ پہ رعب حسن جاناں سے
وہی لہجہ ہے مگر یار ترے لفظوں میں
مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرت ہے
کچھ تو رہے اسلاف کی تہذیب کی خوشبو
زندگی کے اداس قصے میں
شکریہ پھر بھی اے مرے خالق
میں جان بوجھ کے اس کو اداس کرتی ہوں
دو چار دن تو لوگ کریں رو کے تذکرہ
میں اپنی بیٹیوں کا سائبان ہوں کومل
ایک دن پوچھتی پھرے گی حیات