اردوئے معلیٰ

Search

پہنچے ہیں بابِ خلد پہ کوئے بتاں سے ہم

نازاں ہیں آ گئے ہیں کہاں پر کہاں سے ہم

 

وابستہ دل سے ہو گئے اس آستاں سے ہم

جائیں تو کیسے لوٹ کے جائیں یہاں سے ہم

 

تسکینِ قلب راہِ مدینہ میں یوں ملی

گزرا کئے ہوں جیسے کسی کہکشاں سے ہم

 

مت پوچھئے کہ اُن کی غلامی میں کیا ملا

آزاد ہوگئے ہیں غمِ دو جہاں سے ہم

 

ہم بیکسوں کے ملجا و ماویٰ وہی تو ہیں

صد شکر منسلک ہیں شہہِ بیکساں سے ہم

 

اب ہم ہیں اور منزلِ عینِ یقین ہے

آقا کے ہو کے دور ہیں وہم و گماں سے ہم

 

رحمت پہ اُن کی اپنا ہے ایمان اس لئے

پا کر غمِ حیات ہیں یوں شادماں سے ہم

 

اُن کی نگاہِ لطف کے ہیں منتظر مگر

نالاں نہیں ہیں شدّتِ دردِ نہاں سے ہم

 

مدحت میں اُن کی وقف ہماری زبان ہے

پاتے رہے ہیں فیض یہ عمرِ رواں سے ہم

 

نسبت ہماری رنگ وہ لائے جہان میں

اُن کے ہیں سارے جان لیں گزریں جہاں سے ہم

 

عارف ہے رہنمائی میسر حضور کی

ہر رہگزر میں آگے ہیں ہر کارواں سے ہم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ