پہنچ سکتے نہیں رب العلیٰ تک

پہنچ سکتے نہیں رب العلیٰ تک

نہ پہنچیں گر حبیبِ کبریا تک

خدا تک راہبر ہیں، رہنما ہیں

وہ پہنچاتے ہیں انساں کو خدا تک

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
دیار ہجر میں شمعیں جلا رہا ہے وہی
میری آنکھوں سے وہ آنسو جدا ہونے نہیں دیتا
تو رازق ہے میں اس سے باخبر ہوں
خدائے پاک ربُّ العالمیں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے
خطا کاروں کا تُو ستار بھی ہے
محبت خلق سے رب العلیٰ کی
میں عاصی پُر خطا ہوں اور تو ستّار بھی غفار بھی ہے
صدائے کن فکاں اللہ اکبر
خدا ہم درد و مُونس مہرباں ہے

اشتہارات