پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو

پہنچ سے دُور ، چمکتا سراب ، یعنی تُو

مجھے دکھایا گیا ایک خواب یعنی تُو

 

مَیں جانتا ھوں ببُول اور گلاب کے معنی

ببُول یعنی زمانہ ، گلاب یعنی تُو

 

جمالیات کو پڑھنے کا شوق تھا ، سو مجھے

عطا ھوا ھے مکمل نصاب یعنی تُو

 

کہاں یہ ذرّہء تاریک بخت یعنی مَیں

کہاں وہ نُور بھرا ماھتاب یعنی تُو

 

بدل گئی ھے بہت مملکت مرے دِل کی

کہ آگیا ھے یہاں انقلاب یعنی تُو

 

ھر اِک غزل کو سمجھنے کا وقت ھے نہ دماغ

مجھے بہت ھے فقط انتخاب یعنی تُو

 

کبھی تو میرے اندھیروں کو روشنی دے گا

گریز کرتا ھوا ماھتاب یعنی تُو

 

اِدھر ھے کوہ کنِ دشتِ عشق یعنی مَیں

اُدھر ھے حُسنِ نزاکت مآب یعنی تُو

 

اُجاڑ گُلشنِ دل کو بڑی دعاوں کے بعد

ھوا نصیب گُلِ باریاب یعنی تُو

 

بہت طویل سہی داستانِ دل ، لیکن

بس ایک شخص ھے لُبِّ لباب یعنی تُو

 

کبھی کبھی نظر آتا ھے دشتِ ھجراں میں

جنُوں کی پیاس بڑھاتا سراب یعنی تُو

 

چکھے بغیر ھی جس کا نشہ مُسلسل ھے

مجھے بہم ھے اِک ایسی شراب یعنی تُو

 

کوئی سوال ھے جس کو جواب مِلتا نہیں

سوال یعنی کہ فارس ، جواب یعنی تُو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
چھوڑ سارے دھیان ، فارس ! عشق کر
ہمارا حق کبھی دیا، کبھی نہیں دیا گیا
کچھ تو اپنے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
الماری میں سُوکھے پھول نظر آئے
گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں
ہوا،صحرا،سمندر اور پانی،زندگانی
تو سنگِ درِ یار سلامت ہے ، جبیں بھی؟
لاکھ قسمیں دی گئیں ، سو خواب دکھلائے گئے
بالفرض میں جنون میں بھر بھی اڑان لوں

اشتہارات