اردوئے معلیٰ

پیاس کا پودا لگایا حکمتِ شبیرؑ نے

 

پیاس کا پودا لگایا حکمتِ شبیرؑ نے

اپنی آنکھوں سے دیا پانی اُسے ہمشیرؑ نے

 

سیدہ کی گود میں جب مسکرایا آفتاب

اک نیا پیکر دیا اسلام کو تنویر نے

 

لے کے آیا تھا بڑا لشکر تکبر شمر کا

کر دیا گھائل حسینیؑ فکر کی شمشیر نے

 

کربلا میں سب نے دکھلایا ہنر اپنا مگر

جنگ جیتی مسکرا کر فطرتِ بے شیر نے

 

ظلمتِ شب کی اداسی میں در شبیرؑ کا

راستہ حر کو دکھایا مشعلِ تقدیر نے

 

غم کی آتش میں سلگتی زندگی کو اے خمارؔ

عشق کا نغمہ دیا بیمار کی زنجیر نے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ