اردوئے معلیٰ

پیامِ حق کو جو تنویرِ ہر زماں سمجھے

پیامِ حق کو جو تنویرِ ہر زماں سمجھے

وہی حقیقتِ امکان و لامکاں سمجھے

 

سفینہ اور ستارے ہیں لازم و ملزوم

اگر یہ رمز نہ سمجھے تو دیں کہاں سمجھے؟

 

وہ راہِ بولہبی پر ہی گامزن ہو گا

نبی سے بڑھ کے کسی کو جو راہ داں سمجھے

 

وہی تو پیرویِ مصطفیٰ میں سچا ہے

جو دل سے صرف اُنہیں میرِ کارواں سمجھے

 

مقامِ بدر و احد کو بھلا کے بیٹھ گئے

جو لوگ مسندِ آباء کو نَردباں سمجھے

 

کوئی تو ہو جو کرے اُسوۂ رسول کی بات

نقوشِ پائے محمد ہی جاوداں سمجھے

 

اُسی کا دعویٔ ایماں قبولِ حق ہے کہ جو

مصافِ زیست میں کردار کی زباں سمجھے

 

اُنہی پہ زیست کے اسرار بھی کھلے احسنؔ

جو اُن کے عشق کو دل کا نگاہباں سمجھے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ