پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو

پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو

جلوہ طراز اِدھر بھی تو ، روح نواز اُدھر بھی تو

 

ایک نگاہ میں‌جلال، ایک نگاہ میں جمال

منزل طور پر بھی تو، مسند عرش پر بھی تو

 

عجز و نیاز بندگی تیری نوازشوں سے ہے

حاکم ہر دعا بھی تو، بارگہ اثر بھی تو

 

پردہء شب میں‌ ہے نہاں، نورِ سحر میں ہے عیاں

آپ ہی پردہ دار بھی، آپ ہی پردہ در بھی تو

 

تیرا عروج سرمدی، تیرا بیان زندگی

رفعت لامکاں بھی تو، عظمت بام و در بھی تو

 

تو ہی ہے کائناتِ راز، تو ہی ہے رازِ کائنات

تو ہی محیط ہر نظر ، مرکز ہر نظر بھی تو

 

بندہ ترا نثار ہے ذات و صفات پر تری

قلب صبا تو ہی تو، جان دل و جگر بھی تو​

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عشق کو حسن کے انداز سکھا لوں تو چلوں
اے الٰہُ العالمیں ! تجھ سا کوئی بھی نہیں
میں تجھ کو دیکھ لوں اتنی تو زندگی دے دے
خدا کے سامنے سر کو جھکا دو
مکیں سارے خدا کے حمد گو ہیں، مکاں سارے خدا کے حمد گو ہیں
خدائے پاک کا مجھ پر کرم ہے
طوافِ خانہ کعبہ ترجماں ہے ایک مرکز کا
خدائے مہربان نگہِ کرم للّٰہ خدارا
خدا کا فیض جاری ہر جہاں میں
ہر دم تری ہی یاد ہے تیری ہی جستجو

اشتہارات