پیکار ہے وہ ہم سے کوئی دوسرا نہیں

پیکار ہے وہ ہم سے کوئی دوسرا نہیں

یہ حادثہ ہمارے لئے اب نیا نہیں

 

تجھ سے جُدائی کے اُسی اِک فیصلے کے بعد

میں خود بھی اپنے ساتھ کبھی پھر رہا نہیں

 

جاں اِک اندھیری غار ہے تجھ بن مِرے لئے

دِل ایک ایسا طاق ہے جس میں دِیا نہیں

 

دیوارِ شب میں یوں تو کئی چھید تھے مگر

کوشش کے باوجود کوئی در بنا نہیں

 

کچے گھروندے کی طرح میں تیرے ہاتھ میں

کس کس شکست و ریخت سے گذرا پتا نہیں

 

لازم نہیں کروں تِری تعظیم مرتضیٰ

جو دیوتا نہ ہو اُسے میں پوجتا نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جانے کس کی تھی خطا یاد نہیں
ھر حقیقت سے الگ اور فسانوں سے پرے
تُم احتیاط کے مارے نہ آئے بارش میں
پناہ کیسی؟ فقیروں کی جس کو آہ ملے
نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے
جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے
ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا
ثبوت کوئی نہیں ہے ، گواہ کوئی نہیں
ماحول خوابناک ، نہ ہی وقت شب کا تھا
ہم ڈھانپ تو لیں نین ترے نین سے پہلے