اردوئے معلیٰ

پیکار ہے وہ ہم سے کوئی دوسرا نہیں

پیکار ہے وہ ہم سے کوئی دوسرا نہیں

یہ حادثہ ہمارے لئے اب نیا نہیں

 

تجھ سے جُدائی کے اُسی اِک فیصلے کے بعد

میں خود بھی اپنے ساتھ کبھی پھر رہا نہیں

 

جاں اِک اندھیری غار ہے تجھ بن مِرے لئے

دِل ایک ایسا طاق ہے جس میں دِیا نہیں

 

دیوارِ شب میں یوں تو کئی چھید تھے مگر

کوشش کے باوجود کوئی در بنا نہیں

 

کچے گھروندے کی طرح میں تیرے ہاتھ میں

کس کس شکست و ریخت سے گذرا پتا نہیں

 

لازم نہیں کروں تِری تعظیم مرتضیٰ

جو دیوتا نہ ہو اُسے میں پوجتا نہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ