اردوئے معلیٰ

Search

چاندنی شرماتی ہے آقا کا دامن دیکھ کر

خلد للچا جائے گی طیبہ کا گلشن دیکھ کر

 

مرضی محبوب کا تعلق ہے رب کائنات

رخ بدلتا ہے فلک آقا کے چتون دیکھ کر

 

چرخ کا دامن تو سیاروں سے تاباں ہے مگر

وہ بھی گردش میں ہے ان کا نوری آنگن دیکھ کر

 

وہ مطہر وہ مز کی ان کا گھر مینار نور

لپٹی جاتی ہے طہارت ان کا دامن دیکھ کر

 

کتنے طوفانوں کو آقا نے کیا موج نسیم

رہبر عالم بنے ہیں کتنے رہزن دیکھ کر

 

نور اور ظلمت کی رستا خیز یاد آنے لگی

سربکف یاران پیغمبر کے مدفن دیکھ کر

 

مسکرائے چاند ان کی ایڑیوں کو چوم کر

آ گھرے کالی گھٹا زلفوں کا ساون دیکھ کر

 

اہل ایماں کھول جاتے ہیں کسی گستاخ سے

مصطفٰی کی شان بے مثلی پہ قدغن دیکھ کر

 

ان کی جود و بوند پالے دو جہاں میں ہونہال

کیا جچے آنکھوں کو ان کا روئے روشن دیکھ کر

 

کرو فر و شان و شوکت عشق میں سب ہیں فضول

مئے یہاں ملتی ہے لیکن دل کا برتن دیکھ کر

 

بدر عالم کاش خود کو تو کسی قابل بنا

وہ تو اپناتے ہیں لیکن تن نہیں من دیکھ کر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ