اردوئے معلیٰ

چاند ، ستارے ، بادل ، پھول

سب اُن کے قدموں کی دھول

 

جیون میرا ان کی مدحت

ان کی نعتیں ہیں معمول

 

جینا مرنا ہو طیبہ میں

میری عرضی ہو مقبول

 

قاسم ہیں وہ ہر نعمت کے

کل عالم کے وہ مسؤل

 

اپنے جیسا مت سمجھو تُم

مروا دے گی ایسی بھول

 

اٹھنا ہو جب روزِ محشر

اٹھوں مدحت میں مشغول

 

آسیؔ کو طیبہ دکھلا دیں

ہجراں کو اور مت دیں طول

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات