چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی

 

چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی

شاہ کے اعزاز میں ہر شے کی پیدائش ہوئی

 

بس گئیں دل میں امامِ انبیاء کی الفتیں

دور میرے دل سے حبِ زر کی آلائش ہوئی

 

پھول، خوشبو، رنگ، موسم، چاند، تارے، رات، دن

تیری خاطر دو جہاں کی خوب زیبائش ہوئی

 

تیرا صدقہ بانٹتا ہے خالقِ ارض و سماء

تیرے صدقے میں ہمیں حاصل ہر آسائش ہوئی

 

پوری کر دی خالقِ کونین نے یکبارگی

حاصلِ کون و مکاں کی جو بھی فرمائش ہوئی

 

کر محبت آل سے اصحاب سے قرآن سے

شاہِ بحر و بر کی جانب سے یہ فہمائش ہوئی

 

جب کہا صلِ علیٰ اشفاقؔ ہم نے جھوم کر

باغِ جنت کی بہت ہی خوب افزائش ہوئی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نظر نظر کی محبت ادا ادا تھی شفیق
سعادت یہ خیر اُلبشرؐ دیجئے
اے ختمِ رُسل اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے
میں لاکھ برا ٹھہرا، یہ میری حقیقت ہے
تیرا کہنا مان لیں گے اے دلِ دیوانہ ہم​
دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے
معجزہ ہے آیہء والنجم کی تفسیر کا ​
قوسِ قزح میں لفظ بنوں نعت میں کہوں
سلام علیک اے نبی مکرم
جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

اشتہارات