اردوئے معلیٰ

چاند تک پہنچا کوئی بابِ حرم تک پہنچا

"​میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا”​

 

رائیگاں اس کی عبادت بھی ریاضت بھی ہوئی

تیری گلیوں سے جو ہٹ ہٹ کے حرم تک پہنچا

 

اپنی تقدیر پہ وہ لفظ ہے نازاں کتنا

نعتِ آقا کے لیے جو بھی قلم تک پہنچا

 

آپ کی عمر کا گزرا ہے جو اک اک لمحہ

ڈھل کے قرآن کی صورت میں وہ ہم تک پہنچا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات