چاند کی اُلفت میں پاگل ہو گئی

چاند کی اُلفت میں پاگل ہو گئی

رات کی جاگی ہوئی تھی سو گئی

 

اسقدر پھیلے جھمیلے آس پاس

ذہن میں اِک یاد تھی سو کھو گئی

 

اُٹھ گئے سوچوں سے یادوں کے قدم

دھوپ سایوں کے تعاقب کو گئی

 

رات آنکھوں‘‘ میں اُداسی کی لکیر’’

شام گہری ، کتنی گہری ہو گئی

 

خودنمائی دو (۲) دلوں کے درمیاں

بیج اشعرؔ نفرتوں کے بو گئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جیسی ہے بدن میں گل رخ کے ویسی ہی نزاکت باتوں میں
اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ھوگا ھی
اک آدھ روٹی کے واسطے کیسے کیسے چکر چلا رھا ھُوں
تمہیں لگے تو لگے کچھ بھی لا محالہ برا
خواب ہوں ، خواب کا گماں ہوں میں
ایسے ہیں یہ الگ الگ ، جیسے جُدا ہیں مَشرقین
کوئی میرے اشک پونچھے ، کوئی بہلائے مجھے
دل بہت دیوانگی کی منزلیں طے کر چکا
شامل ہے یہ سوال بھی اب کے ملال میں
یہ مشورہ ہے کہ فی الحال ہمکلام نہ ہو

اشتہارات