اردوئے معلیٰ

چاہے جیسے بھی ہوں حالات لکھی جائے گی

ہر گھڑی آپ کی ہی نعت لکھی جائے گی

 

عمر بھر آپ کی لکھتے رہیں باتیں پھر بھی

غیر ممکن ہے کہ ہر بات لکھی جائے گی

 

التجا کاتبِ تقدیر سے یہ کرتا ہوں

کب مری اُن سے ملاقات لکھی جائے گی

 

عقل و دانش کی کہیں پر بھی کوئی بات ہوئی

اُن کی دہلیز کی خیرات لکھی جائے گی

 

تذکرہ شاہِ رسولاں کا جہاں لکھا گیا

کفر کی سب سے بڑی مات لکھی جائے گی

 

وہ جو منسوب ہوا شمعِ رسالت سے فدا

اُس کی قسمت میں کہاں رات لکھی جائے گی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات