چراغِ نعت سے تاریکیاں تنویر کرتا ہوں

چراغِ نعت سے تاریکیاں تنویر کرتا ہوں

حریمِ دل سجانے کی یہی تدبیر کرتا ہوں

 

فرشتے بھی ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں، جس لمحے

شہِ ہر دو سرا کا ذکرِ پر تاثیر کرتا ہوں

 

خوشی سے جھومنے لگتے ہیں قرطاس و قلم میرے

میں جب اسمِ شہِ کون و مکاں تحریر کرتا ہوں

 

تخیل میں جبینِ شوق رکھ کر ان کی چوکھٹ پر

ہمیشہ یونہی خوابِ دید کو تعبیر کرتا ہوں

 

سجا کر نعت کے مصرعوں میں ہجرِ سرورِ عالم

سہانے دردِ فرقت کی بڑی تشہیر کرتا ہوں

 

میں اکثر دیکھتا ہوں خواب میں خود کو مواجہ پر

میں اس خوابِ طرب آثار کی توقیر کرتا ہوں

 

حروفِ مدحتِ شاہِ زمن کو خشت و گل کر کے

مکانِ خلد اپنے ہاتھ سے تعمیر کرتا ہوں

 

غلامانِ محمد کے لئے ہوں انگبیں، لیکن

برائے بے ادب نوکِ زباں شمشیر کرتا ہوں

 

ابھر آتا ہے نقشِ گنبدِ خضریٰ نگاہوں میں

میں جوں ہی کینوس پر جذبِ دل تصویر کرتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آپ کا ہے کرم اے رسولِ خدا
مقدر جب بلندی پر بفیضِ کبریا ہو گا
مجھے کامل یقین ہے، التجاؤں میں اثر ہو گا
بے نوا ہوں مگر ملال نہیں
عشق کا ہے یہ ہنر،میں ہوں یہاں نعت خواں
سرکار کی مدحت کو ہونٹوں پہ سجانا ہے
’’اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب‘‘
جبینِ خامہ حضورِ اکرم کے سنگِ در پر جھکائے راکھوں
کسے نہیں تھی احتیاج حشر میں شفیع کی
میم تیرے نام کی تلخیصِ ہست و بود ہے

اشتہارات