اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا

 

چراغ سامنے والے مکان میں بھی نہ تھا

یہ سانحہ مِرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

 

جو پہلے روز سے دو آنگنوں میں تھا حائل

وہ فاصلہ تو زمین آسمان میں بھی نہ تھا

 

یہ غم نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ہو نہ سکے

یہ رنج ہے کہ کوئی درمیان میں بھی نہ تھا

 

ہوا نہ جانے کہاں لے گئی وہ تیر کہ جو

نشانے پر بھی نہ تھا اور کمان میں بھی نہ تھا

 

جمال پہلی شناسائی کا وہ اک لمحہ

اسے بھی یاد نہ تھا، میرے دھیان میں بھی نہ تھا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں
ھجر میں ھے یہی تسکین مُجھے
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ
پڑھا گیا مرا روزِ جزا جو نامہِ عشق
تحریر سنبھالوں ، تری تصویر سنبھالوں
پھول کھلا روِش روِش ، نُور کا اہتمام کر
خُدا نے تول کے گوندھے ہیں ذائقے تم میں
اچھا ہوا بسیط خلاؤں میں کھو گئے
تم نے یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کیا؟
چکھنی پڑی ہے خاک ہی آخر جبین کو