اردوئے معلیٰ

چشمِ الطاف و عنایاتِ مکرر میں ہے

چشمِ الطاف و عنایاتِ مکرر میں ہے

مجھ سا بے مایہ بھی اُس شہرِ تونگر میں ہے

 

ایک تسکین سی رہتی ہے پسِ حرفِ طلب

اُس سے مانگا ہے تو اب اپنے مقدر میں ہے

 

عشق کا سارا وظیفہ ہے تری دید کا شوق

حسن کا سارا کرشمہ ترے پیکر میں ہے

 

نطق کے طاق میں رکھا ہے ترا اسم چراغ

اور کرنوں کا تواتر ہے کہ منظر میں ہے

 

فردِ عصیاں ہے، مدینہ ہے اور اک توبہ نصیب

شکر ہے فیصلہ خود دستِ پیمبر میں ہے

 

خواب کے ٹوٹتے لمحے کی قسم ہے مقصودؔ

خواب کا منظرِ دلکش دلِ مُضطَر میں ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ