اردوئے معلیٰ

چشمِ نم آپ کا دیدار ہی مانگے جائے

چشمِ نم آپ کا دیدار ہی مانگے جائے

دید کو حسنِ طرح دار ہی مانگے جائے

 

سر خمیدہ ہے قلم اُس درِ اقدّس پہ میرا

دولتِ مدحتِ سرکار ہی مانگے جائے

 

نقشِ نعلینِ کرم بار پہ سر رکھنے کو

بے خودی سنگِ درِ یار ہی مانگے جائے

 

جذبۂ شوق مرا چشمِ بصیرت کے لیے

خاکِ نعلینِ کرم بار ہی مانگے جائے

 

اِس نے دیکھے تھے کہاں پہلے خد و خال ایسے

آئنہ وہ لب و رخسار ہی مانگے جائے

 

معتبر ہو یہ سخن نعت عطا ہو مجھ کو

نطق اب طاقتِ اظہار ہی مانگے جائے

 

آپ سے اذنِ حرم آپ کا منظر ہر دم

مقطعِ نعت میں ہر بار ہی مانگے جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ