اردوئے معلیٰ

چلا ہے شان سے کربل ، جگر حسینؓ کا ہے

بہت کٹھن ہے مگر یہ سفر حسینؓ کا ہے

 

تجھے بتاؤں کہ کربل کا فائدہ کیا ہے؟

جو دین زندہ ہے اب ، یہ اثر حسینؓ کا ہے

 

وہ شاہِ خلد ہیں سردار نوجوانوں کے

خدا سے پیار کا ایسا اجر حسینؓ کا ہے

 

جو جا رہے ہو اگر سوئے کربلا لوگو

ادب سے سر کو جھکاؤ نگر حسینؓ کا ہے

 

فرات روتا رہا پر نہ ایک قطرہ لیا

سلام اس پہ کے سب خشک و تر حسینؓ کا ہے

 

عطا کو زیب کہ لکھے ضرور شانِ حسینؓ

گناہ گار سہی پر پسر حسینؓ کا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات