اردوئے معلیٰ

Search

چلتے چلتے جو نظر شہرِ مدینہ آیا

خود بخود زیرِ قدم اوج کا زینہ آیا

 

مشک و عنبر کا بھلا اس سے تقابل کیسا

میرے آقا کے بدن پر جو پسینہ آیا

 

بحرِ عصیاں کے تلاطم میں گھرے تھے لیکن

نامِ سرکار سے ، ساحل پہ سفینہ آیا

 

جس نے تھاما ہے شہِ کون و مکاں کا دامن

اس کے ہاتھوں میں ہی رحمت کا خزینہ آیا

 

قانع و صابر و درویش تھے صفّہ والے

ہاتھ میں شاذ کبھی نانِ شبینہ آیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ