اردوئے معلیٰ

چلو دیارِ نبی کی جانب درود لب پر سجا سجا کر

بہار لُوٹیں گے ہم کرم کی دلوں کو دامن بنا بنا کر

 

نہ ان کے جیسا سخی ہے کوئی نہ ان کے جیسا غنی ہے کوئی

وہ بے نواؤں کو ہر جگہ سے نوازتے ہیں بُلا بُلا کر

 

یہی اساسِ عمل ہے میری اسی سے بگڑی بنی ہے میری

سمیٹتا ہوں کرم خدا کا نبی کی نعتیں سُنا سُنا کر

 

ہے ان کو اُمّت سے پیار کتنا کرم ہے رحمت شعار کتنا

ہمارے جُرموں کو دھو رہے ہیںحضور آنسو بہا بہا کر

 

میں وہ نکمّاہوں جس کی جھولی میں کوئی حُسنِ عمل نہیں ہے

مگر وہ احسان کر رہے ہیں خطائیں میری چھُپا چھُپا کر

 

ہماری ساری ضرورتوں پر کفالتوں کی نظر ہے ان کی

وہ جھولیاں بھر رہے ہیں سب کی کرم کے موتی لُٹا لُٹا کر

 

وہ آئینہ ہے رُخِ محمد کہ جس کا جوہر جمال رب ہے

میں دیکھ لیتا ہوں سارے جلوے تصوّر ان کا جما جما کر

 

اگر مقدّر نے یاوری کی اگر مدینے گیا میں خالدؔ

قدم قدم پر خاک اس گلی کی میں چوم لوں گا اُٹھا اُٹھا کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات